؎نئی دہلی، 23؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں وزیر تعلیم پرکاش جاوڈیکر نے ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ میں ترنگا یاترا کے دوران انہوں نے کہا کہ بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کے ساتھ ہی جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بوس اورسردار پٹیل بھی آزادی کے لیے پھانسی پر جھول گئے تھے۔جاوڈیکر اپنی تقریر کے دوران شہیدوں پر بول رہے تھے۔انہوں نے اپنی تقریر کے دوران ایسے شہیدوں کا نام لیا جنہیں جنگ آزادی کے دوران پھانسی ہوئی تھی۔اسی سلسلہ میں وہ نہرواورپٹیل کے ساتھ ہی سبھاش چندر بوس کا نام بھی لے بیٹھے۔دوسری طرف، پرکاش جاوڈیکر نے ٹوئٹر پر اپنی صفائی دی ہے۔ انہوں نے ایک کے بعد ایک 4 ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ میں نے 1857کے بعد کے سبھی مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا۔میں نے گاندھی، نہرو، بوس کا نام لیا، یہ لائن یہی ختم تھی، اگلی لائن میں میں نے ان کانام لیا ، جنہیں پھانسی دی گئی، جنہیں جیل جانا پڑا اور جن پر انگریزی حکومت نے مظالم کے پہاڑ توڑ ے ۔میرے دماغ میں اس کو لے کر کوئی الجھن نہیں تھی۔وہاں سننے والوں کو کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی ہے۔اس سے پہلے چھندواڑہ پہنچے جاوڈیکر نے کہا کہ وہ چھندواڑہ ضلع کی ترقی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔اجلاس میں کانگریس ممبران اسمبلی کی کرسی جہاں خالی نظر آئی، وہیں ایم پی کمل ناتھ کے نام کی ٹیبل نہیں لگائی گئی تھی۔